SKU: 81131493254

دل کی گیتا | Dil Ki Gita

Sale price$135.00 Regular price$150.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 15 - Jul 20

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

دل کی گیتا | Dil Ki Gita: 1883 1970 35 1940 1943 1946 ( ) ( ) 1902 1956 1924 1938 ( ) 1924 1935 32 24 28 1961

مصنف: تعارف
خواجہ دل محمد شیخ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کے مورث اعلیٰ سلطان محمود غزنوی کے عہد میں اسلام لائے۔ ان کا آبائی وطن غزنی تھا۔ ان کے بعد کے بزرگ لاہور آ کر آباد ہو گئے۔ آباد و اجداد کا پیشہ تجارت تھا۔ حوادث روزگار اور انقلاب زمانہ کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ خاندان ہر دور میں ترقی کرتا رہا۔خواجہ دل محمد لاہور کے کوچہ ’’گیان‘‘ عقب کشمیری بازار میں فروری 1883 ء میں خواجہ نظام الدین ابن خواجہ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ قرآنی تعلیم کا آغاز چار برس کی عمر میں سنہری مسجد سے کیا۔ کلام ناظرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ میں داخل ہوئے اور میٹرک تک تعلیم اسی سکول سے حاصل کی۔ اسی دوران انجمن حمایت اسلام نے اسلامیہ ہائی سکول کی عمارت کے بالائی حصے میں کالج بھی قائم کر دیا۔ لہٰذا خواجہ دل محمد نے ایف اے اور بی اے کے امتحانات اسلامیہ کالج ہی سے پاس کئے۔ کالج کے زمانے میں شیخ سر عبدالقادر ان کے استادوں میں سے تھے اور ان کی شخصیت نے خواجہ دل محمد کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ریاضی کے مضمون سے خواجہ دل محمد کو ایک فطری مناسبت اور رغبت تھی۔ بیچلرز میں ان کے مضامین میں ریاضی کا ڈبل کورس تھا اور پھر یہی مضمون ماسٹرز میں اختیار کیا اور 1970 ء میں ریاضی میں ماسٹرز کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اسلامیہ کالج ہی میں استاد مقرر ہو گئے۔ کالج کے ساتھ آپ کی وابستگی والہانہ تھی۔ مختلف وقتوں میں گرانقدر مشاہرے پر بھی نوکریوں کی پیشکش ہوئی۔ لیکن خواجہ صاحب نے فیصلہ ہمیشہ اسلامیہ کالج کے حق میں دیا اور 35 برس تک اس کالج میں تشنگان علم کو فیض یاب کرتے رہے۔ 1940 ء میں اس کالج کے پرنسپل ہوئے اور 1943 ء میں سبکدوش ہو گئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد رجسٹرار ضلع لاہور مقرر ہوئے۔ 1946 ء میں تقسیم ہند کے وقت خرابی صحت کے سبب اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ ملازمت کے اس عرصہ کے دوران تصنیف و تالیف میں بھی مصروف رہے۔استاد کے طور پر خواجہ دل محمد بڑے کامیاب اور ہر دلعزیز تھے۔ ان کا علم اور تجربہ بڑا وسیع تھا۔ ریاضی جیسے خشک مضمون کو ایسے دلچسپ انداز سے پڑھاتے تھے کہ طلبہ کلاس میں شوق سے آتے اور خوش و خرم جاتے تھے۔ ان کی حیثیت بطور ریاضی دان مسلمہ تھی اور ان کے پائے کے ماہر ریاضیات انگلیوں پر شمار کئے جا سکتے تھے۔آپ کے نامو رشاگردوں میں شیخ عبداللہ سابق وزیر اعلیٰ ریاست مقبوضہ کشمیر ، عبدالحمید سالک، مولانا غلام رسول مہر اور پروفیسر تاج محمد خیال (بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے پہلے چیئر مین) شیخ زاہد حسین (سابق گورنر سٹیٹ بنک) شامل ہیں۔ خواجہ دل ریاضی اور شاعری کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کا آغاز نعت گوئی سے کیا۔ 1902ء میں جب آپ ایف اے کے طالب علم تھے تو آپ کے والد نے آپ کی شاعری کے ابتدائی کلام کا مجموعہ ’’حمدو نعت‘‘ کے عنوان سے طبع کرایا لیکن اب اس کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے۔خواجہ دل محمد کی شاعری کا باقاعدہ آغاز انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں قومی نظموں سے ہوا۔ طالب علمی کے زمانے میں خواجہ صاحب ان جلسوں میں نظمیں سناتے تھے جہاں اکابر شعرا کرام حالی، شبلی، ڈپٹی نذیر احمد، ارشد گورگانی نظمیں سناتے تھے۔ خواجہ دل محمد ان اکابر شخصیات سے داد بھی حاصل کرتے اور فیض بھی پاتے تھے۔ خدا نے انہیں ذہن سلیم عطا کیا تھا۔ اس لئے حالی، ارشد گورگانی، سائل دہلوی اور علامہ اقبالؒ کے کلام سے استفادہ کر کے انہوں نے اپنی شاعری کو بالیدگی بخشی۔ مولانا حالی اور اقبالؒ کے کلام سے متاثر ہو کر انجمن کے سالانہ جلسوں میں بڑی اچھی نظمیں پڑھیں۔ ان سالانہ جلسوں میں پڑھی جانے والی نظموں کا مجموعہ بڑا ضخیم تھا۔ چنانچہ بعد ازاں خواجہ صاحب نے اس مجموعے کی نظموں میں کانٹ چھانٹ کی اور دوبارہ 1956 ء میں ’’حیات نو‘‘ کے نام سے شائع کیا۔خواجہ دل محمد کی سیاسی اور سماجی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے انہوں نے ملازمت کی پابندیوں کے باوجود قومی اور سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا۔ 1924 ء میں خلافت اور کانگریس کی متحدہ کمیٹی کے ٹکٹ پر میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں حصہ لیا اور دامے ‘ درمے ‘ قدمے ‘ سخنے مسلمانوں کی مدد کرتے رہے اور اپنی شاعری کے ذریعے اپنے ملک پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں آزادی کا جوش اور ولولہ بھی پیدا کرتے رہے۔ 1938 ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھی جانے والی نظم ’’محمد بن قاسم فاتح پاکستان‘‘ کا یہ شعر ان کے جذبات کا بھرپور ترجمان ہے۔ملا پنجاب و سندھ و سرحد و کشمیر کو یکجاخدا کے پاک بندے اپنا پاکستان پیدا کر(پاکستان کا نام چوہدری رحمت علی نے تجویز کیا تھا)۔ریاضی ایک مشکل اور خشک مضمون ہونے کے سبب طلبہ کیلئے ہمیشہ وبال جان رہا ہے لیکن خواجہ دل محمد نے اس کی تدریس میں ایسا شگفتہ اور دل کش اسلوب اختیار کیا کہ ریاضی سے بدکنے والے اس کے مداح ہو کر رہ گئے۔ آپ نے 1924ء میں الجبرے کی پیچیدگیوں کا آسان حل بذریعہ تصنیف پیش کیا۔ یہ الجبرا انتہائی مقبول ہوا اور ہزاروں کی تعداد میں چھپ کر فروخت ہوا۔ اس کی زبردست مقبولیت کے سبب آئندہ سال آپ نے مزید دو کتابیں تصنیف کیں۔ تینوں کتابوں کا سیٹ 1935 ء میں مکمل ہوا۔ یہ تینوں کتابیں ہر سکول میں رائج ہو گئیں۔ یہاں تک کہ یہ کتابیں علی گڑھ یونیورسٹی، بمبئی اور مدارس یونیورسٹی کے نصاب میں بھی منظور ہو گئیں۔ جیو میٹری کا اسلوب اس قدر پسند کیا گیا کہ ہندو سکولوں میں بھی یہ کتاب پڑھائی جانے لگی۔ ان کتب سے پہلے انجمن حمایت اسلام کے اسلامیہ سکولوں میں ہندو اور انگریز مصنفین کی کتابیں رائج تھیں مگر خواجہ دل محمد کی ان تصانیف کی طباعت کے بعد یہ کتابیں پڑھائی جانے لگیں۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد خواجہ دل محمد نے پاکستانی تعلیمی اداروں کیلئے اس مشہور سلسلے کو انگریزی سے اردو میں منتقل کر دیا۔ اردو میں نصابی کتب کا یہ پہلا معیاری سلسلہ تھا جس کی خوب پذیرائی ہوئی اور اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ خواجہ دل محمد کی مرتب کردہ ریاضی کی 32 کتب مختلف مدارج کے نصاب میں شامل رہیں۔خواجہ دل محمد نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی اعلیٰ جماعتوں کا نصاب تیار کرنے میں بھی حصہ لیا۔ پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے گیارہ برس تک ممبر اور 24 برس تک فیلو آف پنجاب یونیورسٹی رہے۔ لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کے چھ سال تک ٹرسٹی رہے۔ خواجہ صاحب نے اپنی تمام عمر علم و ادب اور سماجی خدمات میں گزاری۔آپ کا انتقال 28 مئی 1961 ء کو سرطان کی بیماری کے باعث ہوا۔۔۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 81131493254

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.4 ★★★★★
Based on 436 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
M
Verified Purchase
M. Heiss
Omaha, US
★★★★★ 5
fast bathroom touch-ups
Great for fast bathroom touch-ups -- that four-times-a-day wiping away drips, toothpaste, and splashes. Sensitive formula won't dry out your skin. These are great to have on hand. I buy tons of these for disaster prep -- when there's no water, it's nice to have a way to keep fresh. Also good for barter, if SHTF.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 11, 2016
H
Verified Purchase
H Victorious
Bozeman, US
★★★★★ 5
Great Makeup Wipes
These baby wipes are, hands down, the best baby wipes I have ever used. I use them for taking off my makeup before washing my face (much cheaper than buying makeup wipes). They are durable wipes and they really break down the makeup, yet they are super soft on the skin. They have a light fresh smell too, which is good because I use them on my face.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 10, 2016
J
Verified Purchase
J. Beaver
Dallas, US
★★★★★ 5
Perfect for my babies
The Pampers Sensitive Wipes, 448 count, seem to be the best for my children/ babies. After using Costco and other cheaper wipes that caused rashes and other issues, we discovered Pampers Sensitive Wipes. They not only worked great cleaning up the typical baby messes, they did not cause any rashes after use. P & G seem to always be on top of providing quality products to their customers.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 29, 2016
S
Verified Purchase
Seattle Sue
Alexandria, US
★★★★★ 5
Sensitive and Versatile
Wow! This is a big box. I wanted to try some new wipes for the barn and camping. The fact that they were labelled sensitive attracted me to them. It might have been a good idea to try a smaller package first. Fortunately I'm delight with these. The wipes have a soft cloth feel that's not as thin and synthetic feeling as some others. They seem to pick up more of what I'm trying to wipe when some others just smear stuff around. With such a big supply, it's been easy to spread these around to several places to have them on hand. The Prime Pantry price was low enough that I don't feel bad using disposables.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 16, 2016
K
Verified Purchase
Kelly Spencer
Omaha, US
★★★★★ 4
Great for sensitive skin but they could use more texture
I am glad these don't cause a rash on my son's sensitive skin but I don't really like how slippery/slimey these wipes are since it makes it harder to clean my kid's bottom. I have to use more wipes than I'd like because a single wipe doesn't really have the texture to get all the mess off. I do like these wipes to give my kids to wipe their faces and hands since my kids say they are soft, but their softness makes them less effective at wiping off messes on the bottom of my toddler. I think I will stick with less expensive brands of wipes that have a texture that is better at cleaning off my little guy.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 24, 2016

recommand products